MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں

خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں
ہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیں

اب حسن و عشق میں فرق نہیں اب دونوں کی اک حالت ہے
میں ان کو دیکھتا رہتا ہوں وہ مجھ کو دیکھتے رہتے ہیں

ان کی وہ حیا وہ خاموشی اپنی وہ محبت کی نظریں
وہ سننے کو سب کچھ سنتے ہیں ہم کہنے کو سب کچھ کہتے ہیں

اس شوق فراواں کی یا رب آخر کوئی حد بھی ہے کہ نہیں
انکار کریں وہ یا وعدہ ہم راستہ دیکھتے رہتے ہیں

ہمدرد نہیں ہم راز نہیں کس سے کہئے کیوں کر کہئے
جو دل پہ گزرتی رہتی ہے جو جان پہ صدمے سہتے ہیں

آ دیکھ کہ ظالم فرقت میں کیا حال مرا بے حال ہوا
آہوں سے شرارے جھڑتے ہیں آنکھوں سے دریا بہتے ہیں

اکبرؔ شاید دل کھو بیٹھے وہ جلسے وہ احباب نہیں
تنہا خاموش سے پھرتے ہیں ہر وقت اداس سے رہتے ہیں

جلال الدین اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم