غزل
بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحری
ترے افسوں کی سب اے دوست ہے افسانہ گری
ایک ہی حال پہ قائم ہے ازل سے اب تک
حسن کی عشوہ گری عشق کی شوریدہ سری
جانے والے تو ستاروں سے پرے جا پہنچے
اہل محفل لئے بیٹھے رہے شیشہ کی پری
اب کوئی فرق نہیں ان میں خذف ہوں کہ گہر
ہائے اے عہد بصیرت یہ تری بے بصری
کتنے مجروح ہیں اس دور میں احساس و شعور
کتنی مظلوم ہے اس عہد میں بالغ نظری
تجھ کو اے دوست وفاؔ یاد رہے یا نہ رہے
ہاں مگر یاد رہے گی مری ویراں نظری
وفا ملک پوری