MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا

غزل

حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا
ان کی آنکھوں میں ہے شکوہ مجھے معلوم نہ تھا

اب سوا مرثیۂ کم نگہی کیا کہئے
سامنے تھا مرے جلوہ مجھے معلوم نہ تھا

مجھ کو شکوہ نہیں کچھ آتش گل سے لیکن
آشیاں یوں بھی جلے گا مجھے معلوم نہ تھا

گم ہوئی گیسوئے جاناں کی سیاہی اس میں
اتنی تاریک ہے دنیا مجھے معلوم نہ تھا

خون دل جس کے لئے صرف کیا ہے میں نے
وہ ہے تاریک اجالا مجھے معلوم نہ تھا

دور تک نقش قدم ہے نہ نشان سجدہ
میں ہوں اس راہ میں تنہا مجھے معلوم نہ تھا

میں غم عہد تعلق کو بھلا بیٹھا تھا
دل کا ہر زخم ہے تازہ مجھے معلوم نہ تھا

دیکھ کر حسن کا اترا ہوا چہرہ گم ہوں
ان کا یہ حال بھی ہوگا مجھے معلوم نہ تھا

اور بھی کچھ در زنداں سے نکلتے ہی وفاؔ
سخت ہو جائے گا پہرہ مجھے معلوم نہ تھا

وفا ملک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم