MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں
اک سراب تشنگی ہے موجۂ صہبا یہاں

روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگی
آپ کے بس میں نہیں ہے آپ کا سایہ یہاں

آتے آتے آنکھ تک دل کا لہو پانی ہوا
کس قدر ارزاں ہے اپنے خون کا سودا یہاں

تیرے میرے درمیاں حائل رہی دیوار حرف
رکھ لیا اک بات نے ہر بات کا پردا یہاں

دیکھیے تو یہ جہاں ہے اک جہان آب و گل
سوچئے تو ذرے ذرے میں ہے اک دنیا یہاں

حمایت علی شاعر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم