دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے
دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگےلویں تراشنے والے فرار ہونے لگے دبیز پردوں پہ مانوس لہریں اٹھنے لگیہوا کے ہاتھ دریچوں سے پار ہونے لگے عدو بھی بھرنے لگے دم تری رفاقت کااب ایسے ویسے تماشے بھی یار ہونے لگے اب آنے والی کسی رت کا انتظار ہو کیاجڑوں سے اپنی شجر داغ دار […]
دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے Read More »