MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگےلویں تراشنے والے فرار ہونے لگے دبیز پردوں پہ مانوس لہریں اٹھنے لگیہوا کے ہاتھ دریچوں سے پار ہونے لگے عدو بھی بھرنے لگے دم تری رفاقت کااب ایسے ویسے تماشے بھی یار ہونے لگے اب آنے والی کسی رت کا انتظار ہو کیاجڑوں سے اپنی شجر داغ دار […]

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے Read More »

لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے

لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سےاک اک رنگ الگ کر سکتا ہوں میں خوشبو سے دونوں پریشاں دونوں بوجھل دونوں ہی گھنگھورگہرا رشتہ ہے بادل کا تیرے گیسو سے میری پیشانی پر جھلکی میرے لہو کی آگرات ڈھلے کچھ چاند سا اگنا اس کے پہلو سے اچھی صورت کوئی اچانک سامنے جب

لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے Read More »

میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی

میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانیمیری پیاس کے ساحل تک ہے تیرا بہتا پانی سارے امکانات میں روشن صرف یہی دو پہلوایک ترا آئینہ خانہ اک میری حیرانی آج ہوں میں اپنے بستر پر کروٹ کروٹ بوجھلمیری نیند سے آ کر الجھی اک بے رنگ کہانی ملنا جلنا رسم ہی ٹھہرا

میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی Read More »

نہ ساتھ آ مرے میں گرتے فاصلوں میں ہوں

نہ ساتھ آ مرے میں گرتے فاصلوں میں ہوںغبار دشت ہوں اور تیز آندھیوں میں ہوں نہ جانے قصد کہاں کا ہے کیوں نکالے قدمزمانہ بیت گیا کیسی ہجرتوں میں ہوں خود اپنے شام و سحر میں الجھ گیا ایسامیں آسماں ہوں مگر اپنی گردشوں میں ہوں بہت کشادہ فلک ہے بڑی بسیط زمیںمگر یہ

نہ ساتھ آ مرے میں گرتے فاصلوں میں ہوں Read More »

نواح دل میں یہ میری مثال جلتے رہیں

نواح دل میں یہ میری مثال جلتے رہیںخس‌ و گلاب نبات و نہال جلتے رہیں کبھی نہ سرد پڑے گرمیٔ نشاط نفستمام پیکر فکر و خیال جلتے رہیں یہ جبر وقت ہے کیسا کہ اس کی یاد کے چانداگیں تو پھر سر شاخ ملال جلتے رہیں ہوائے ہجر ابھی تک ہے محو خواب کہیںفصیل جاں

نواح دل میں یہ میری مثال جلتے رہیں Read More »

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالیآخری نیکی تھی ترکش میں وہ بھی کر ڈالی ٹھہرو یہیں اے قافلے والو آیا دشت بلااس نے یہ کہہ کے اپنے سر پر خاک سفر ڈالی اور کوئی دنیا ہے تیری جس کی کھوج کروںذہن میں پھر اک سمت بکھیری راہ گزر ڈالی ہاتھ ہوا

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی Read More »

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیالمس آنکھوں کو بدن کا ذائقہ دینے سے کیا ہو چکی ہے گم صدائے بازگشت غیب بھیپتھروں کو اب کوئی نقش نوا دینے سے کیا دھند کی گہری تہوں میں سارے پیکر دفن ہیںاپنی بچھڑی ساعتوں کو اب صدا دینے سے کیا اک نہال خستہ کی صورت کھڑا

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا Read More »

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہےدہکتی آگ سا گردن پہ سر کیوں لگ رہا ہے لہو سے آبیاری کرنے والو کچھ تو سوچویہ سارا باغ بے برگ و ثمر کیوں لگ رہا ہے پرند فکر پر ہیں سخت کیوں اس کی اڑانیںمسافر آج بے سمت و سفر کیوں لگ رہا ہے

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے Read More »

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیںاک پرندہ گم ہوا اونچی اڑانوں میں کہیں میں حقیقت ہوں کسی کردار میں مجھ کو نہ ڈھاللوگ دہرائیں نہ مجھ کو داستانوں میں کہیں رات چپ ہے اکا دکا چپوؤں کے ساز پرگیت کوئی گونجتا ہے بادبانوں میں کہیں رات زخمی ہو رہی ہے لمحہ لمحہ میرے ساتھپھڑپھڑاتے

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں Read More »

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کیاس پار میں ہوں اور سیاہی ہے شام کی کن کن بلندیوں سے الجھتا رہا ہے ذہنیہ آسماں جھلک بھی نہیں اس کے بام کی الفاظ کی گرفت سے ہے ماورا ہنوزاک بات کہہ گیا وہ مگر کتنے کام کی اعجاز دے رہا ہوں اب اپنے ہنر

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی Read More »