MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے
اور اس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے

میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہوں
جو ایک پل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے

کوئی پرندہ سا پر کھولتا ہے اڑنے کو
پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے

جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہوں
وہی گواہ وہی مہربان ٹوٹتا ہے

نہ ہم میں حوصلۂ خود کشی کہ مر جائیں
نہ ہم سے قفل در پاسبان ٹوٹتا ہے

زکات عشق اگر بانٹنے پہ آ جاؤں
تو اک ہجوم طلب مجھ پہ آن ٹوٹتا ہے

جو آندھیاں سر‌ صحرائے‌ ہجر اٹھتی ہیں
ان آندھیوں میں رضاؔ نخل جان ٹوٹتا ہے

حسن عباس رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم