MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے
دہکتی آگ سا گردن پہ سر کیوں لگ رہا ہے

لہو سے آبیاری کرنے والو کچھ تو سوچو
یہ سارا باغ بے برگ و ثمر کیوں لگ رہا ہے

پرند فکر پر ہیں سخت کیوں اس کی اڑانیں
مسافر آج بے سمت و سفر کیوں لگ رہا ہے

یہ کس خواہش کا مد و جزر ہیں میری نگاہیں
مجھے سارا سمندر اک بھنور کیوں لگ رہا ہے

ابھی روشن ہیں کچھ نقش و نگار خود فریبی
محل اس کی رفاقت کا کھنڈر کیوں لگ رہا ہے

مجھے کس موج میں لایا ہے استغراق میرا
میں جس قطرے کو چھوتا ہوں گہر کیوں لگ رہا ہے

میں ہوں اس پار ابھرتے ڈوبتے منظر میں جیسے
ادھر جو ہونے والا تھا ادھر کیوں لگ رہا ہے

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم