MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہے

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہے
سورج کے بھی اگنے پر ہر سمت اندھیرا ہے

افسردہ دلوں میں بھی ارمانوں کا ڈیرا ہے
سوکھی ہوئی شاخوں پر چڑیوں کا بسیرا ہے

میں صاف طبیعت ہوں کچھ دل میں نہیں رکھتا
کیا سوچ کے منہ تم نے آئینے سے پھیرا ہے

جائیں تو کدھر جائیں بہکے ہوئے منزل سے
دھوپیں بھی گھنیری ہیں سایہ بھی گھنیرا ہے

جنبشؔ کوئی آ جائے اس وقت خیالوں میں
تنہائی کا عالم ہے احساس نے گھیرا ہے

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم