MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا
چھوڑی جو ان کی راہ تو در در کہا گیا

ساقی نے میرے نام پہ ساغر پٹک دیا
تشنہ لبی کو میرا مقدر کہا گیا

ہر چشم التفات کے حسن نگاہ کو
آئینۂ خلوص کا جوہر کہا گیا

احساس حسن ظرف سے ملتی ہے آبرو
پانی کی ایک بوند کو گوہر کہا گیا

اے صبح کی کرن یہ خیالات زندگی
وہ بات کون تھی جسے گھر گھر کہا گیا

پروازیوں کی شرح نظر تک نہ کر سکی
لیکن خیال طائر بے پر کہا گیا

نیرنگیوں کی بات ہے اے عارض جمال
شعلہ دہک اٹھا تو گل تر کہا گیا

جنبشؔ سکوں‌ نواز مزاجی کو چھوڑیئے
خاموشئ حیات کو اکثر کہا گیا

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم