وحشت رضا علی کلکتوی
- کلکتہ
رضا علی وحشت 18 نومبر 1881ء کو کلکتہ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے جد امجد حکیم غالب نے 1957ء کی جنگ آزادی میں اپنے آبائی وطن دہلی سے نکل کر کلکتہ میں سکونت اختیار کی تھی۔ رجا کے والد کا نام مولوی شمشاد علی تھا جنہوں نے طب کی بجائے تعلیم کا میدان منتخب کیا اور انگریز سرکار سے وابستہ ہو گئےمگر زندگی نے وفا نہ کی،رضا علی اس وقت لڑکپن میں تھے۔ کم عمری میں یتیم ہو گئےمگر غریبی تو تھی نہیں لہٰذا کوئی پریشانی زیادہ حائل نہ ہوئی تعلیمی سلسلہ چلتا رہا۔مگر زیادہ عرصہ تعلیم حاصل نہ کر سکے،کیونکہ جائداد آہستہ آستہ بکتی جا رہی تھی۔1898ء میں رضا علی نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور پھر 1903ء میں امپریل ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہو گئے۔ان کے ذمّہ ترجمہ کا کام لگایا گیا۔ وہ فارسی مکتوبات کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا کرتے تھے۔یہ وہ درخواستیں ہوا کرتی تھیں جو بر صغیر کےکونے کونے سے تاج برطانیہ کو بھیجی جاتی تھیں۔ انہیں یہ کام پسند نہیں تھا مگر مجبوری تھی۔ 1910ء میں ان کا مجموعہ کلام دیوان وحشت کے عنوان سے منظر عام پر آیا
وہ 20 جولائی 1956ء کو ڈھاکہ میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے دوسرا دیوان ترانہ وحشت شائع کرایا۔انہیں بنگال کا غالب کہا جاتا تھا۔انہیں یہ لقب الطاف حسین حالی نے دیا تھا۔وہ ڈھاکہ کے عظیم پورہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں