MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
جبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا

زبان شمع محفل سے سنا ہے اہل محمل نے
ترا انجام کیا پروانۂ آتش بجاں ہوگا

تلاطم ہے امیدوں کا تصادم آرزوؤں کا
دل ہنگامہ پرور کون تیرا راز داں ہوگا

رہیں یوں ہی اگر رنگینیاں طرز تبسم کی
مرے زخم جگر پر خندۂ گل کا گماں ہوگا

تجمل سے گزر ہوگا ترے کوچے میں عاشق کا
تمناؤں کا لشکر کارواں در کارواں ہوگا

کبھی توفیق ترک‌ ماسوا کی ہو ہی جائے گی
دل آزاد ہوگا اور عیش جاوداں ہوگا

سرور افزا و مستی خیز و شورش آفریں ہوگی
وہ بزم شعر جس میں وحشتؔ شیوا بیاں ہوگا

وحشت رضا علی کلکتوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم