MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیںکھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیں کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتاکوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں ہوا کی ابر کی کوشش تو پوری پوری ہےمگر دھویں کی طرح میں بکھرنے والا نہیں میں اپنے آپ کو بس ایک بار دیکھوں گاپھر […]

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں Read More »

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہمپھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہم تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہےاگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم یوں گرد راہ بنے عشق میں سمٹ نہ سکےپھر آسمان ہوئے اور چار سو ہوئے ہم رہی ہمیشہ دریدہ قبائے جسم تمامکبھی

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم Read More »

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہماپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیںدل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوںجانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم Read More »

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیاتمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا تباہ کر گیا اک لمحۂ خراب مجھےکہ میں نے حلقۂ آوارگاں کو چھوڑ دیا کہیں پناہ نہیں ملتی لمحہ بھر کے لیےکہ جب سے محفل دل دادگاں کو چھوڑ دیا بس ایک کنج خس و خاک میں سکون ملاسو میں

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا Read More »

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیںہم اپنی اذیت کو کم کر رہے ہیں ہماری نگاہوں سے سپنے چرا کروہ کس کی نگاہوں میں ضم کر رہے ہیں حیات رواں کی ہر اک نا روائیہم اپنے لہو سے رقم کر رہے ہیں بھلی کیوں لگے ہم کو خوشیوں کی دستکابھی ہم محبت کا غم کر

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں Read More »

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوںیہ تم ہو کہ میں آئنا دیکھتی ہوں ہتھیلی سے ٹھنڈا دھواں اٹھ رہا ہےیہی خواب ہر مرتبہ دیکھتی ہوں بڑھے جا رہی ہے یہ روشن نگاہیخرافات ظلمت کدہ دیکھتی ہوں مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم!میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں فریحہ نقوی

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں Read More »

کیوں دیا تھا؟ بتا! میری ویرانیوں میں سہارا مجھے

کیوں دیا تھا؟ بتا! میری ویرانیوں میں سہارا مجھےمیں اداسی کے ملبے تلے دفن تھی، کیوں نکالا مجھے ایسی نازک تھی گھر کے پرندوں سے بھی خوف کھاتی تھی میںیہ کہاں، کن درندوں کے جنگل میں پھینکا ہے تنہا مجھے خواب ٹوٹے تھے اور کرچیاں اب بھی آنکھوں میں پیوست ہیںاب یہ کس منہ سے

کیوں دیا تھا؟ بتا! میری ویرانیوں میں سہارا مجھے Read More »

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟مری سمجھ سے تو بالاتر ہے یہ پیار ہے یا معاہدہ ہے ”جو تو نہیں تھی تو اور بھی تھے جو تو نہ ہوگی تو اور ہوں گے”کسی کے دل کو جلا کے کہتے ہو میری جاں یہ محاورہ ہے ہم آج قوس قزح

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟ Read More »

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائےہر آہٹ پر دل یوں دھڑکے جیسے تم ہو آئے ضد میں آ کر چھوڑ رہی ہے ان بانہوں کے سائےجل جائے گی موم کی گڑیا دنیا دھوپ سرائے شام ہوئی تو گھر کی ہر اک شے پر آ کر جھپٹےآنگن کی دہلیز پہ بیٹھے ویرانی کے سائے

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے Read More »

اے مری ذات کے سکوں آ جا

اے مری ذات کے سکوں آ جاتھم نہ جائے کہیں جنوں آ جا رات سے ایک سوچ میں گم ہوںکس بہانے تجھے کہوں آ جا ہاتھ جس موڑ پر چھڑایا تھامیں وہیں پر ہوں سر نگوں آ جا یاد ہے سرخ پھول کا تحفہ؟ہو چلا وہ بھی نیلگوں آ جا چاند تاروں سے کب تلک

اے مری ذات کے سکوں آ جا Read More »