MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا
جو کچھ بھی تھا اے زندگی وہ تیرے نام ہو چکا

کب کی گزر گئی وہ شب جس میں کسی کا نور تھا
کب کی گلی میں دھوپ ہے جینا حرام ہو چکا

پھرتے رہیں نگر نگر کوچہ بہ کوچہ در بہ در
اپنے خیام جل چکے اپنا سلام ہو چکا

رات میں باقی کچھ نہیں نیند میں باقی کچھ نہیں
اپنا ہر ایک خواب تو نذر عوام ہو چکا

اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبو
یعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکا

عشق گر ایسا عشق ہے آنکھوں سے بہنے دو لہو
زیست گر ایسی زیست ہے اپنا تو کام ہو چکا

رستے تمام ہو گئے اس کی گلی کے آس پاس
یعنی خرام ہو چکا یعنی قیام ہو چکا

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم