MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے
جس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھے

جس کو کھو کر خاک ہوئے ہم آج اسے بھی دیکھا تو
ہنستی آنکھیں افسردہ تھیں ہونٹ بھی نیلے نیلے تھے

جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے
میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے

آخر آخر ایسا ہوا کہ تیرا نام بھی بھول گئے
اول اول عشق میں جاناں ہم کتنے جوشیلے تھے

آنکھیں بجھا کے خود کو بھلا کے آج شناسؔ میں آیا ہوں
تلخ تھیں لہجوں کی برساتیں رنگ بھی کڑوے کسیلے تھے

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم