MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا
پھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا

بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے
تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو
پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا

بس اک تعلق بے نام ٹوٹنے کے بعد
سخن تمام ہوا رشتۂ سخن بھی گیا

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم