MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیںاک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں آنکھیں بلیک اینڈ وائٹ ہیں تو پھر ان میں کیوںرنگ برنگے خواب کہاں سے آتے ہیں خوابوں کی مٹی سے بنے دو کوزوں میںدو دریا ہیں اور اکٹھے بہتے ہیں چھوڑو جاؤ کون کہاں کی شہزادیشہزادی کے ہاتھ میں چھالے […]

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں Read More »

کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئے

کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئےحق پرستوں کے لئے زندان ہونا چاہئے اس وطن میں مقتدر ہونے کی پہلی شرط ہےآدمی کے روپ میں شیطان ہونا چاہئے آپ جیسوں کو رعایا جھیلتی ہے کس طرحآپ کو تو سوچ کر حیران ہونا چاہئے نیم ملا خطرۂ ایمان ہوتا ہے اگرپورا ملا غاصب ایمان ہونا

کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئے Read More »

لاکھ دل نے پکارنا چاہا

لاکھ دل نے پکارنا چاہامیں نے پھر بھی تمہیں نہیں روکا تم مری وحشتوں کے ساتھی تھےکوئی آسان تھا تمہیں کھونا؟ تم مرا درد کیا سمجھ پاتےتم نے تو شعر تک نہیں سمجھا کیا کسی خواب کی تلافی ہے؟آنکھ کی دھجیوں کا اڑ جانا اس سے راحت کشید کر!! دن راتدرد نے مستقل نہیں رہنا

لاکھ دل نے پکارنا چاہا Read More »

تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے

تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہےمگر کھونے کی بھی ہمت نہیں ہے بہت سوچا بہت سوچا ہے میں نےجدائی کے سوا صورت نہیں ہے تمہیں روکا تو جا سکتا ہے لیکنمرے اعصاب میں قوت نہیں ہے مرے اشکو مرے بیکار اشکو!!تمہاری اب اسے حاجت نہیں ہے ابھی تم گھر سے باہر مت نکلناتمہاری ہوش کی

تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے Read More »

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہےدل کا دروازہ کھلا ہے جو وہ آنا چاہے عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہودل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سےرات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے اک نظر دیکھ مجھے!! میری عبادت کو

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے Read More »

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئےہوئی تمام سحر آہ سرد بھرتے ہوئے تھے اس کے ہاتھ لہو میں ہمارے غرق مگرذرا بھی شرم نہ آئی اسے مکرتے ہوئے ہوا چلی تو پریشاں ہوئے شجر اوراقمگر نہ تھے وہ ہماری طرح بکھرتے ہوئے کبھی ادھر سے جو گزریں تو یاد آتا ہے یہکہ اس کو

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے Read More »

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتاوہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا بس اپنے باغ میں محو خرام رہتا ہےکہ خود سے دور وہ سرو رواں نہیں جاتا حجاب اس کے مرے بیچ اگر نہیں کوئیتو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگےمگر وہ

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا Read More »

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے

روشنی سے کس طرح پردا کریں گےآخر شب سوچتے ہیں کیا کریں گے وہ سنہری دھوپ اب چھت پر نہیں ہےہم بھی آئینے کو اب اندھا کریں گے جسم کے اندر جو سورج تپ رہا ہےخون بن جائے تو پھر ٹھنڈا کریں گے گھر سے وہ نکلے تو بس اسٹینڈ تک ہیاس کا سایہ بن

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے Read More »

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریںدرمیاں کے فاصلے کا طے سفر کیسے کریں کوئی سنتا ہی نہیں عرض ہنر کیسے کریںخود کو ہم اپنی نظر میں معتبر کیسے کریں آخری پتھر سے بے سمت و نشاں جانا ہے ابہم کھلی آنکھوں سے یہ اندھا سفر کیسے کریں جان کے جانے

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں Read More »

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے

روشنی سے کس طرح پردا کریں گےآخر شب سوچتے ہیں کیا کریں گے وہ سنہری دھوپ اب چھت پر نہیں ہےہم بھی آئینے کو اب اندھا کریں گے جسم کے اندر جو سورج تپ رہا ہےخون بن جائے تو پھر ٹھنڈا کریں گے گھر سے وہ نکلے تو بس اسٹینڈ تک ہیاس کا سایہ بن

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے Read More »