MOJ E SUKHAN

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں
کھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیں

کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا
کوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں

ہوا کی ابر کی کوشش تو پوری پوری ہے
مگر دھویں کی طرح میں بکھرنے والا نہیں

میں اپنے آپ کو بس ایک بار دیکھوں گا
پھر اس کے بعد کسی سے بھی ڈرنے والا نہیں

چراغ جاں لیے کس دشت میں کھڑا ہوں میں
کوئی بھی قافلہ یاں سے گزرنے والا نہیں

میں کیا کروں کوئی تصویر گر ادھوری ہے
میں اپنے رنگ تو اب اس میں بھرنے والا نہیں

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم