MOJ E SUKHAN

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں
درمیاں کے فاصلے کا طے سفر کیسے کریں

کوئی سنتا ہی نہیں عرض ہنر کیسے کریں
خود کو ہم اپنی نظر میں معتبر کیسے کریں

آخری پتھر سے بے سمت و نشاں جانا ہے اب
ہم کھلی آنکھوں سے یہ اندھا سفر کیسے کریں

جان کے جانے کا اندیشہ بہت ہے اب کی بار
معرکہ بھی آخری کرنا ہے سر کیسے کریں

کچھ دنوں کی بات ہو تو کاٹ دیں آنکھوں میں رات
نیند اگر آئے نہ فرخؔ عمر بھر کیسے کریں

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم