MOJ E SUKHAN

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا
جو بھی ہونا تھا ہوا جو ہوگا دیکھا جائے گا

شہر کی سرحد تلک پہنچا کے سب رخصت ہوئے
اب یہاں سے بس مرے ہمراہ صحرا جائے گا

اب کوئی دیوار اس کے سامنے رکتی نہیں
سیل گریہ اب مرے روکے نہ روکا جائے گا

کیا مری آنکھوں سے دنیا خود کو دیکھے گی کبھی
کیا کبھی میری طرح اک روز سوچا جائے گا

جان کی بازی لگا دینی ہے فرخؔ اب کی بار
تب کہیں جا کر یہ آئے دن کا جھگڑا جائے گا

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم