MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں
خود کو رسوا سر بازار بھی کر سکتا ہوں

تو سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں تیرے بغیر
میں ترے پیار سے انکار بھی کر سکتا ہوں

غیر ممکن ہی سہی تجھ کو بھلانا لیکن
یہ جو دریا ہے اسے پار بھی کر سکتا ہوں

تو مری امن پسندی کو غلط نام نہ دے
وار سہتا ہی نہیں وار بھی کر سکتا ہوں

مے کدہ کار دگر اور جناب واعظ
ایسی نیکی میں گنہ گار بھی کر سکتا ہوں

داورا میں تری دنیا میں تو خاموش رہا
پر سر حشر میں تکرار بھی کر سکتا ہوں

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم