MOJ E SUKHAN

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں
سو حیرتوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہوں

پہنچ تو سکتا تھا منزل پہ میں مگر اے دوست
میں دوسروں کے لیے راستہ بنا ہوا ہوں

میں جب چلا تھا تو اپنے بھی مجھ کو چھوڑ گئے
اور آج دیکھ لو میں قافلہ بنا ہوا ہوں

ستم تو یہ ہے کہ ہے میری داستاں اور میں
شریک متن نہیں حاشیہ بنا ہوا ہوں

کبھی تھا قیس کبھی میرؔ اور اب فرتاشؔ
سلوک عشق کا اک سلسلہ بنا ہوا ہوں

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم