MOJ E SUKHAN

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا
نہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتا

مے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھا
نہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا

میں کبھی کا مر بھی رہتا نہ غم فراق سہتا
اگر اپنی زندگی پر مجھے اختیار ہوتا

یہ جو عشق جانستاں ہے یہ وہ بحر بیکراں ہے
نہ سنا کوئی سفینہ کبھی اس سے پار ہوتا

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

ہے اس انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا
کہ جو میں یہاں نہ ہوتا یہ ہی کاروبار ہوتا

اسماعیل میرٹھی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم