MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہےبقدر ہمت رہرو کشش منزل میں ہوتی ہے محبت دل میں ہوتی ہے تمنا دل میں ہوتی ہےجوانی عمر کی کتنی حسیں منزل میں ہوتی ہے محبت اے معاذ اللہ محبت دم نکل جائےاگر محسوس بھی اتنی ہو جتنی دل میں ہوتی ہے ٹھہرنے بھی نہیں […]

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے Read More »

اک دشت بے اماں کا سفر ہے چلے چلو

اک دشت بے اماں کا سفر ہے چلے چلورکنے میں جان و دل کا ضرر ہے چلے چلو حکام و سارقین کی گو رہگزر ہے گھرپھر بھی برائے بیت تو در ہے چلے چلو مسجد ہو مدرسہ ہو کہ مجلس کہ مے کدہمحفوظ شر سے کچھ ہے تو گھر ہے چلے چلو ظلمت ہے یاں

اک دشت بے اماں کا سفر ہے چلے چلو Read More »

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلاہاتھ آیا جو یقیں وہم سراسر نکلا اک سفر دشت خرابی سے سرابوں تک ہےآنکھ کھولی تو جہاں خواب کا منظر نکلا کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیںنم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا خشک آنکھوں سے اٹھی موج تو دنیا ڈوبیہم

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا Read More »

خوشبو ہے کبھی گل ہے کبھی شمع کبھی ہے

خوشبو ہے کبھی گل ہے کبھی شمع کبھی ہےوہ آتش سیال جو سینے میں بھری ہے بادہ طلبی شوق کی دریوزہ گری ہےصد شکر کہ تقدیر ہی یاں تشنہ لبی ہے غنچوں کے چٹکنے کا سماں دل میں ابھی ہےملنے میں جو اٹھ اٹھ کے نظر ان کی جھکی ہے اب ضبط سے کہہ دے

خوشبو ہے کبھی گل ہے کبھی شمع کبھی ہے Read More »

سفر ہی بعد سفر ہے تو کیوں نہ گھر جاؤں

سفر ہی بعد سفر ہے تو کیوں نہ گھر جاؤںملیں جو گم شدہ راہیں تو لوٹ کر جاؤں مسلسل ایک سی گردش سے ہے قیام اچھازمین ٹھہرے تو میں بھی کہیں ٹھہر جاؤں سمیٹوں خود کو تو دنیا کو ہاتھ سے چھوڑوںاثاثہ جمع کروں میں تو خود بکھر جاؤں ہے خیر خواہوں کی تلقین مصلحت

سفر ہی بعد سفر ہے تو کیوں نہ گھر جاؤں Read More »

صحراؤں میں دریا بھی سفر بھول گیا ہے

صحراؤں میں دریا بھی سفر بھول گیا ہےمٹی نے سمندر کا لہو چوس لیا ہے دنیا کی ملامت کا بھی اب خوف ہے دل کوخاشاک نے موجوں کو گرفتار کیا ہے منزل ہے نہ جادہ ہے نہ سایہ ہے نہ پانیتنہائی کا احساس فقط راہنما ہے سورج بھی پڑا روتا ہے اک گہرے کنویں میںبرسوں

صحراؤں میں دریا بھی سفر بھول گیا ہے Read More »

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائےمنتظر دل کی مناجات مکمل ہو جائے عمر بھر ملتے رہے پھر بھی نہ ملنے پائےاس طرح مل کہ ملاقات مکمل ہو جائے دن میں بکھرا ہوں بہت رات سمیٹے گی مجھےتو بھی آ جا تو مری ذات مکمل ہو جائے نیند بن کر مری آنکھوں سے

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے Read More »

تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہرا

تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہراروز و شب اپنا مقدر ہی اندھیرا ٹھہرا یاد کرتے نہیں اتنا تو دل خانہ خراببھولا بھٹکا کوئی دو روز اگر آ ٹھہرا کوئی الزام نسیم سحری پر نہ گیاپھول ہنسنے پہ خطا‌ وار اکیلا ٹھہرا پتیاں رہ گئیں بو لے اڑی آوارہ صباقافلہ موج بہاراں کا بس

تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہرا Read More »

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیںمرنے دیتی ہیں نہ جینے یہ ستم گر یادیں ہیں کبھی خون تمنا کی شناور یادیںشاخ دل پر ہیں کبھی برگ گل تر یادیں ہمت کوہ‌‌ کنی پر بھی کبھی بھاری ہیںاور تلتی ہیں کبھی نوک مژہ پر یادیں تھک کے دنیا سے اگر کیجیئے خوابوں کی تلاشنیند اڑا

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں Read More »

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئےہم کو روز اک جاں نئی اور اک نیا سر چاہئے التفات و سرگرانی پر خوشی کیا رنج کیاکچھ بہانہ اس سے بڑھ کر دیدۂ تر چاہئے کیا دکھائیں خشک لب دو بوند کے ساقی ہیں سبپیاس صحرائے ازل اس کو سمندر چاہئے سچ کی اک ننھی

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے Read More »