MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے
ہم کو روز اک جاں نئی اور اک نیا سر چاہئے

التفات و سرگرانی پر خوشی کیا رنج کیا
کچھ بہانہ اس سے بڑھ کر دیدۂ تر چاہئے

کیا دکھائیں خشک لب دو بوند کے ساقی ہیں سب
پیاس صحرائے ازل اس کو سمندر چاہئے

سچ کی اک ننھی سی کونپل کو کچلنے کے لیے
جھوٹ اور دشنام کے لشکر کے لشکر چاہئے

صبر کا دامان دولت ہے امیروں کا امیر
جبر کی دریوزگی کو سینکڑوں در چاہئے

بت بنانے پوجنے پھر توڑنے کے واسطے
خود پرستی کو نیا ہر روز پتھر چاہئے

ہم نے جس دنیا کو ٹھکرایا تھا ان کے واسطے
مل گئے وہ تو اسی دنیا کا چکر چاہئے

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم