MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں
مرنے دیتی ہیں نہ جینے یہ ستم گر یادیں

ہیں کبھی خون تمنا کی شناور یادیں
شاخ دل پر ہیں کبھی برگ گل تر یادیں

ہمت کوہ‌‌ کنی پر بھی کبھی بھاری ہیں
اور تلتی ہیں کبھی نوک مژہ پر یادیں

تھک کے دنیا سے اگر کیجیئے خوابوں کی تلاش
نیند اڑا دیتی ہیں افسانے سنا کر یادیں

راہ بھولے ہوئے سیاح کو تنہا پا کر
لوٹ لیتی ہیں مٹا دیتی ہیں چھپ کر یادیں

عہد رفتہ کے پر اسرار گھنے جنگل میں
پھونک کر سحر بنا دیتی ہیں پتھر یادیں

کوئی خود رفتہ و گم گشتہ بھٹکتا ہے جہاں
اجنبی بن کے وہاں ملتی ہیں اکثر یادیں

جب بھی ماضی کے دیاروں سے گزر ہوتا ہے
کاسۂ چشم لیے پھرتی ہیں در در یادیں

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم