MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر
ڈر رہی ہوں کہ یہ وحشت بھی چلی جائے اگر

شام ہوتے ہی ستاروں سے یہ پوچھا اکثر
شام ہونے کی یہ صورت بھی چلی جائے اگر

اک ترا درد سلیقے سے سنبھالا لیکن
دیدۂ تر سے طراوت بھی چلی جائے اگر

یہ تو ہے خون جگر چاہئے لیکن اے دل
شعر کہنے کی رعایت بھی چلی جائے اگر

میں تو حیران پریشان یہی سوچتی ہوں
آئینہ خانے سے حیرت بھی چلی جائے اگر

اک نظر بھر کا ہی سودا چلو منظور ہمیں
کم نگاہی کی یہ مہلت بھی چلی جائے اگر

وہ گیا ہے تو مجھے کام ہی اب کوئی نہیں
کیا ہی اچھا ہو کہ فرصت بھی چلی جائے اگر

دل کے ملبے میں تمنا نے یہ حسرت سے کہا
کیا ہو تعمیر کی حسرت بھی چلی جائے اگر

تیری فرقت بڑی دشوار مگر ایسے میں
یاد کرنے کی سہولت بھی چلی جائے اگر

اب نشاط غم فرقت سے سوال اتنا ہے
تعزیہ داری کی لذت بھی چلی جائے اگر

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم