MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہماری قربتوں میں فاصلہ نہ رہ جائے

ہماری قربتوں میں فاصلہ نہ رہ جائےقدم سے لپٹا ہوا راستہ نہ رہ جائے ہوائے وحشت دل تیز چل رہی ہے بہتردائے ہجر مرا سر کھلا نہ رہ جائے خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیںدعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے یہ لوگ کس لئے اپنے طواف میں ہیں مگنصنم […]

ہماری قربتوں میں فاصلہ نہ رہ جائے Read More »

ہوئے ہو کس لئے برہم عزیزم

ہوئے ہو کس لئے برہم عزیزمسر تسلیم ہے لو خم عزیزم چراغ حجرۂ جاں کی خبر لولبوں پر آ گیا ہے دم عزیزم نہیں بھرتا یہ زخم ہجر اپنالگاؤ وصل کا مرہم عزیزم تم آتے ہو تو دم آتا ہے گویاتم آتے ہو مگر کم کم عزیزم نبود و بود کی اس کشمکش میںعجب ہے

ہوئے ہو کس لئے برہم عزیزم Read More »

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کااس بار ہے امکان بشر اور طرح کا اس بار مدینے ہی میں در آیا تھا کوفہاس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا اس بار نہ اسباب نہ چادر پہ نظر تھیاس بار تھا لٹنے کا خطر اور طرح کا اس بار کوئی عیب کوئی

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا Read More »

کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میں

کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میںتو کیا بتائیں گے سود و زیاں کے بارے میں حریم دیدہ وری! خاک اڑ رہی ہے مریمیں جانتی تھی غبار مکاں کے بارے میں نہ جانے کیسی گزرتی ہے جانے والوں پرکوئی بتاتا نہیں رفتگاں کے بارے میں دعا کرو کہ سلامت رہے مرا پندارزمیں پہ

کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میں Read More »

مرے چارہ گر تجھے کیا خبر، جو عذاب ہجر و وصال ہے

مرے چارہ گر تجھے کیا خبر، جو عذاب ہجر و وصال ہےیہ دریدہ تن یہ دریدہ من تری چاہتوں کا کمال ہے مجھے سانس سانس گراں لگے، یہ وجود وہم و گماں لگےمیں تلاش خود کو کروں کہاں مری ذات خواب و خیال ہے وہ جو چشم تر میں ٹھہر گیا وہ ستارہ جانے کدھر

مرے چارہ گر تجھے کیا خبر، جو عذاب ہجر و وصال ہے Read More »

پھول مرجھا جائیں گے کانٹے لگے رہ جائیں گے

پھول مرجھا جائیں گے کانٹے لگے رہ جائیں گےہر خوشی مٹ جائے گی بس دکھ ہرے رہ جائیں گے لالہ زاروں کہساروں میں تمہیں ڈھونڈیں گے ہمیاد کے بے نام سے کچھ سلسلے رہ جائیں گے تم قریب ہو کر بھی اتنی دور ہوتے جاتے ہوقربتوں کے درمیاں بس فاصلے رہ جائیں گے تصفیہ مابین

پھول مرجھا جائیں گے کانٹے لگے رہ جائیں گے Read More »

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیاہم نے اپنے کو تماشا کبھی ہونے نہ دیا ہم کو اس گردش دوراں نے کہیں کا نہ رکھاپھر بھی لہجے کو شکستہ کبھی ہونے نہ دیا مے کدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والےآنکھ کو ساغر و مینا کبھی ہونے نہ دیا دل میں اک

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا Read More »

تمام عمر رواں کا مال حیرت ہے

تمام عمر رواں کا مال حیرت ہےجواب جس کا نہیں وہ سوال حیرت ہے دکان چشم یہاں بے مثال حیرت ہےاس آئنے کا سراسر کمال حیرت ہے یہ زندگی تو ترے ساتھ ساتھ ختم ہوئیجو مجھ میں باقی ہے وہ لا زوال حیرت ہے وہ خواب ایسے تھے تعبیر ان کی تھی ہی نہیںرمیدہ ہجر

تمام عمر رواں کا مال حیرت ہے Read More »

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتابدل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک Read More »

ناچنے والے وہ درویش وہ گانے والے​

ناچنے والے وہ درویش وہ گانے والے​اب کہاں ہیں وہ نئے شہر بسانے والے​ ​کیا ہوئے درد کسی یاد کے مہکے مہکے​رات کے پچھلے پہر آ کے جگانے والے​ ​اپنی صورت ہی نظر آنی تھی چاروں جانب​دیکھتے کیسے ہمیں آئنہ خانے والے​ ​غزوہ ئ آتشِ نمرود ہو یا آتشِ دل​ہم ہمیشہ رہے بس آگ بجھانے

ناچنے والے وہ درویش وہ گانے والے​ Read More »