MOJ E SUKHAN

کمال یہ نہیں کہ زندگی خراب ہوئی

غزل

کمال یہ نہیں کہ زندگی خراب ہوئی
کمال یہ ہے محبت سے بازیاب ہوئی

وہ جس کہ چہرے پہ ٹھہری تھی گہری خاموشی
جو اشک آنکھ سے ٹپکا تو بے حجاب ہوئی

نجات مل نہیں پائی کبھی تھكن سے مجھے
سو رات نیند بھی تكيے تلے عذاب ہوئی

وہ شاہزادہ محبت سے بازیاب ہوا
میں شاہزادی محبت میں ماہتاب ہوئی

وہ مجھ پہ پہلی ملاقات میں نہ کھل پایا
تمام عمر یہی سوچ کر خراب ہوئی

مری مثال مجھے دے گیا وہ جاتے ہوئے
میں اس کی بات پہ اس درجہ لاجواب ہوئی

بیاضِ حسن میں رکھا کلام جب اس نے
عمود میری غزل اس کا انتخاب ہوئی

عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم