MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی کا ہاتھ بھی اک دن جھٹک جائیں گے ہم

غزل

زندگی کا ہاتھ بھی اک دن جھٹک جائیں گے ہم
کیا خبر کس وقت پنکھے سے لٹک جائیں گے ہم
ہم خزاں رت کی شبِ فرقت کے مارے لوگ ہیں
مسکراتے پھول ہیں لیکن چٹک جائیں گے ہم
باتوں باتوں میں چلے گا ذکر تیرا دفعتاً
اور تیرے نام پر یک دم اٹک جائیں گے ہم
بھاگ نکلیں گے کسی دن رفتگاں کے جال سے
دھول کی صورت اداسی کو جھٹک جائیں گے ہم
جنگ کے حالات سے نکلے تو لمبی سیر کو
پہلے دہلی، پھر بنارس ،پھر اٹک جائیں گے ہم
کرن منتہیٰ
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم