MOJ E SUKHAN

کہاں قسمت میں بزم آرائیاں تھیں

غزل
کہاں قسمت میں بزم آرائیاں تھیں
جہاں ہم تھے وہاں تنہائیاں تھیں
مرے مرنے پہ تم کو یاد آیا
مرے اندر بہت اچھائیاں تھیں
بچھڑتے وقت میں نے ماں کو دیکھا
وہ بوڑھی تو نہیں تھی جھائیاں تھیں
دلِ برباد تھا وہ شے کہ جس کے
مقدّر میں فقط رسوائیاں تھیں
نظر انداز ہی کرنا اگر تھا
تو پھر کس کام کی بینائیاں تھیں
میں یونہی تو نہیں نکلی سفر پر
مرے پیچھے کئی پرچھائیاں تھیں
ہمارا گھر محلے میں الگ تھا
جہاں پر شور نہ شہنائیاں تھیں
عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم