یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے
یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئےمیں تھک گیا ہوں تجھ کوخدا مانتے ہوئے اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھےصدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے پھرتا ہوں لے کے آنکھ میں ذرے کی وسعتیںصحرا سمٹ گئے ہیں مجھے چھانتے ہوئے برکھا کے شامیانے سے باہر ندی کے پاساچھا لگا ہے دھوپ […]
یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے Read More »