MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے​

یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے​میں تھک گیا ہوں تجھ کوخدا مانتے ہوئے​ ​اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھے​صدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے​ ​پھرتا ہوں لے کے آنکھ میں ذرے کی وسعتیں​صحرا سمٹ گئے ہیں مجھے چھانتے ہوئے​ ​برکھا کے شامیانے سے باہر ندی کے پاس​اچھا لگا ہے دھوپ […]

یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے​ Read More »

دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے​

دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے​ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے​ ​سارے نکل پڑے تھے اسی کے حساب میں​بچوں کی طرح رو پڑی دکھ تولتے ہوئے​ ​میں کیا کروں کہ آنکھیں اسے بھولتی نہیں​دل تو سنبھل گیا ہے مرا ڈولتے ہوئے​ ​کہنے لگی ہے آنکھ میںپھر مجھ کو شب بخیر​پانی میں شام

دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے​ Read More »

امید ِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہے

امید ِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہےوہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے اٹھانیں کیسی ہیں اسکی ، خطوط کیسے ہیںبدن کا قریہ ء نقش و نگار کیسا ہے ادائیں کیسی ہیں کھانے کی میز پر اس کیلباس کیسا ہے اُس کا، سنگھار کیسا ہے وہ کیسے بال جھٹکتی ہے اپنے

امید ِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہے Read More »

کیسے وہم و قیاس سے گزرا

کیسے وہم و قیاس سے گزراخواب میں بھی ہراس سے گزرا ہرعمارت بہار بستہ ہےکون چیرنگ کراس سے گزرا رات اک کم سخن بدن کے میںلہجہ ئ پُر سپاس سے گزرا پھر بھی صرفِ نظر کیا اس نےمیں کئی بار پاس سے گزرا رو پڑی داستاں گلے لگ کرجب میں دیوانِ خاص سے گزرا عمر

کیسے وہم و قیاس سے گزرا Read More »

جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا

جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرااک نئی کائنات سے گزرا ہاتھ میں لالٹین لے کے میںجبر کی کالی رات سے گزرا آتی جاتی ہوئی کہانی میںکیا کہوں کتنے ہاتھ سے گزرا موت کی دلکشی زیادہ ہےمیں مقامِ ثبات سے گزرا جستہ جستہ دلِ تباہ مراجسم کی نفسیات سے گزرا لمحہ بھر ہی وہاں رہا

جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا Read More »

دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ

دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہتخلیہ اے زندگانی تخلیہ ظلِ سبحانی ہیں آئے درد کےاے کنیزِ شادمانی تخلیہ آرہا ہے وہ چراغِ صبح پاچاند تارو ، مہربانی ، تخلیہ مہ وشو!اب یاسمن کے باغ کیدیکھتے ہیں گل فشانی ، تخلیہ بجلیو! موسیٰ کلیم اللہ سے میںسن رہاہوں لن ترانی تخلیہ بارگاہِ دل میں شرمندہ نہ کرلمس کی

دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ Read More »

دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں

دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میںہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں اسمِ اللہ کے تصور سے گرےآبشارِ بیکرانی آنکھ میں لال قلعے سے قطب مینار تکوقت کی ہے شہ جہانی آنکھ میں لکھ رہا ہے اس کا آیت سا بدنایک تفسیرِ قرانی آنکھ میں دودھیا باہیں ، سنہری چوڑیاںگھومتی ہے اک مدھانی آنکھ میں

دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں Read More »

تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا

تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہاآسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمیچاہتے تھے جو ، وہی پیغمبری کرتا رہا نیند آجائے کسی صورت مجھے، اس واسطےمیں ، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفسمیں بہشت ِ

تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا Read More »

جتنے موتی گرے آنکھ سے ، جتنا تیرا خسارا ہوا​

جتنے موتی گرے آنکھ سے ، جتنا تیرا خسارا ہوا​دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا​ ​آگرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر​اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا​ ​ہم نے دیکھا اسے، بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیرتک​پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا​ ​جا

جتنے موتی گرے آنکھ سے ، جتنا تیرا خسارا ہوا​ Read More »

بس ایک رات مرے گھر میں چاند اترا تھا

بس ایک رات مرے گھر میں چاند اترا تھاپھر اس کے بعد وہی میں وہی اندھیرا تھا صبا کا نرم سا جھونکا تھا یا بگولا تھاوہ کیا تھا جس نے مجھے مدتوں رلایا تھا عجب اٹھان لیے تھا وہ غیرت شمشادتباہ حال دلوں کا کہاں ٹھکانہ تھا اندھیری شام تھی بادل برس نہ پائے تھےوہ

بس ایک رات مرے گھر میں چاند اترا تھا Read More »