MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے​

دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے​
ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے​

​سارے نکل پڑے تھے اسی کے حساب میں​
بچوں کی طرح رو پڑی دکھ تولتے ہوئے​

​میں کیا کروں کہ آنکھیں اسے بھولتی نہیں​
دل تو سنبھل گیا ہے مرا ڈولتے ہوئے​

​کہنے لگی ہے آنکھ میںپھر مجھ کو شب بخیر​
پانی میں شام اپنی شفق گھولتے ہوئے​

​کنکر سمیت لائے ہمیشہ مرا نصیب​
منصور موتیوں کو یونہی رولتے ہوئے​

منصور آفاق

​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم