MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے​

یہ کائنات ِ روح و بدن چھانتے ہوئے​
میں تھک گیا ہوں تجھ کوخدا مانتے ہوئے​

​اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھے​
صدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے​

​پھرتا ہوں لے کے آنکھ میں ذرے کی وسعتیں​
صحرا سمٹ گئے ہیں مجھے چھانتے ہوئے​

​برکھا کے شامیانے سے باہر ندی کے پاس​
اچھا لگا ہے دھوپ مجھے تانتے ہوئے​

​یہ بھول ہی گیا کوئی میرا بھی نام تھا​
ہر وقت نام یار کا گردانتے ہوئے​

​اس کے کمال ِ ضبط کی منصور خیر ہو​
صرف ِ نظر کیا مجھے پہچانتے ہوئے​

منصور آفاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم