MOJ E SUKHAN

کون جیت سکتا ہے عزمِ چرخ پیما سے

کون جیت سکتا ہے عزمِ چرخ پیما سے
سانپ ہار جاتے ہیں چوبِ خشکِ صحرا سے

لے کے ہاتھ میں پانی پھینکنا بتاتا ہے
تشنگی نچوڑی ہے اس نے موجِ دریا سے

چاکِ پیرہن تسلیم، ہم پہ یہ کرم کیسا
ہم کہاں کے یوسف ہیں، پوچھنا زلیخا سے

ہم سے خوش نگاہی کی بھیک لینے آئے ہیں
دستِ گل فروشاں پر یہ دھرے ہوئے کاسے

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم