کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئے
شجر گیا تو سمجھئے کہ آشیانے گئے
جس ایک پل کے لئے ہجر سے بنا کے رکھی
وہ ایک پل نہیں آیا کئی زمانے گئے
کبھی نہ لوٹ کے آے وہ جلتے بجھتے چراغ
سیاہ رات میں جو راستہ دکھانے گئے
جب ایک پھول کھلا بے شمار ہاتھ بڑھے
جب اک چراغ جلا سینکڑوں بجھانے گئے
ہمارے ساتھ یہاں رہ گئی تمہاری یاد
تمہارے ساتھ ہمارے بھی دن سہانے گئے
بناۓ پہرا نہیں ہے تو پہرہ دار بھی کیوں
وہیں پہ سانپ بھی جائے جہاں خزانے گئے
واجد امیر