MOJ E SUKHAN

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں
ایک سے ایک خوب رو ہے یہاں

پر ہے بازار حسن چہروں سے
جانے کس کس کی آبرو ہے یہاں

کیسے آباد ہو یہ ویرانہ
وحشت کذب چار سو ہے یہاں

آنکھ کی پتلیوں کو غور سے دیکھ
تیری تصویر ہو بہو ہے یہاں

کیسے تاریخ لکھی جائے گی
صرف تلوار اور گلو ہے یہاں

تو کہاں ہے خبر نہیں اے دوست
رات دن تیری گفتگو ہے یہاں

جھانکتا کون ہے گریباں میں
آئینہ کس کے رو بہ رو ہے یہاں

مقتل آرزو ہے دل واجدؔ
ہر تمنا لہو لہو ہے یہاں

واجد امیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم