MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا

غزل

مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا
مفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گا

جو ترا عاشق رفتار ہے جوں نقش قدم
تیرے کوچے کے تئیں چھوڑ کہاں جاوے گا

غیر کے کہنے پر اے یار نہ کہیو ہرگز
یہ سمجھ رکھیو وہ شیطان ہے بہکاوے گا

دہر میں تیرے فریبوں سے اے شوخ عیار
کم کوئی ہوگا نہ دل جس کا دغا پاوے گا

یار کو طرز جفا سے نہیں رکھنے کا باز
ناصحا ہر گھڑی مجھ کو ہی تو سمجھاوے گا

آشنائی نہ جہاں دارؔ سے توڑ اے پیارے
ایسا عاشق نہ جہاں میں تو کوئی پاوے گا

مرزا جواں بخت جہاں دار

دیگر پوسٹس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم