MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ایک بات جو منت کش زباں نہ ہوئی

غزل

وہ ایک بات جو منت کش زباں نہ ہوئی
اس ایک بات کی شہرت کہاں کہاں نہ ہوئی

میں چپ رہآ تو مری خامشی نے دوہرائ
وہ داستاں جو کبھی زیب داستاں نہ ہوئی

ادھر وہ پوچھ رہے تھے مزاج کیسے ہیں
ادھر میں چپ تھا کہ گویا بدن میں جاں نہ ہوئی

کسی بھی شہر میں ایسا کوئ ملا نہ ہمیں
کہ جس کے منہ میں کسی اور کی زباں نہ ہوئی

گھروں میں کون رہے اور گلی میں کون رہے
کبھی یہ جنگ چراغوں کے درمیاں نہ ہوئی

سوائے اس کے جو خاموش تھا ہماری طرح
حدیث عشق کسی اور سے بیاں نہ ہوئی

یہ سانحہ بھی عجب سانحہ ہوا اب کے
وہاں بھی جشن ہوا عافیت جہاں نہ ہو ئی

وہی تو وقت تھا حالات کے سمجھنے کا
بیان ہو کے بھی جب داستاں بیاں نہ ہوئی

نہ شور اٹھا نہ ٹوٹا سکوت مقتل کا
اذاں کا وقت بھی آیا مگر اذاں نہ ہوئی

ملے ہو تم تو یہ محسوس ہورہا ہے مجھے
تمام عمر مری جیسے رائیگاں نہ ہوئی

ہے یہ نسب کی بلندی کہ ہر بلندی پر
زمیں زمیں ہی رہی قد میں آسماں نہ ہوئی

عباس حیدر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم