MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے
ابھی اذان کی آواز آنے والی ہے

تجھے یقین تو شاید نہ آئے گا لیکن
یہ صبح کوئی کرشمہ دکھانے والی ہے

کسے خبر ہے کہ آندھی چلائے پیڑ گرائے
یہی ہوا جو پتنگیں اڑانے والی ہے

سمیٹ بکھرے ہوئے کاغذات کو اپنے
کوئی صدا تجھے واپس بلانے والی ہے

تجھے بھی ظلم سے فرصت نہ مل سکے گی کبھی
مری انا بھی کہاں سر جھکانے والی ہے

مری غزل پہ نئے لوگ کیوں تڑپتے ہیں
مری غزل تو پرانے زمانے والی ہے

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم