MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہجر سے اب کے شروع ایک کہانی کرنا

ہجر سے اب کے شروع ایک کہانی کرنااور مکمل بھی اسے میری زبانی کرنا پہلے جلنا ہے جسے اپنی چتا میں اس کوپھر کسی برف کے پیکر کو ہے پانی کرنا یہ محبت ہے کسی وحشی قبیلے کا دھرماپنے ہاتھوں سے وداع اپنی جوانی کرنا آج جنگل سے بلا لائے ہیں جگنو ہم نےٹھان لی […]

ہجر سے اب کے شروع ایک کہانی کرنا Read More »

خوشبو کو تو گل سےباہر جانا تھا

خوشبو کو تو گل سےباہر جانا تھاورنہ ہوا کا چلنا ایک بہانا تھا پھول رکھے تھے لوگوں نے گلدانوں میںتتلی کو بھی کچھ دھوکا تو کھانا تھا جاگ رہی تھی ساتھ مرے تنہائ بھیقصہ مجھ کو ساری رات سنانا تھا عمر یہ کیسے پوری کرتے لوگ یہاںآنا تھا اک سانس کو ، اک کو جانا

خوشبو کو تو گل سےباہر جانا تھا Read More »

جو نین بجھ گئے وہ تری دید سے گئے

جو نین بجھ گئے وہ تری دید سے گئےاور دل بجھے تو چاہ کی تجدید سے گئے جن کی دراز دستی سے ٹوٹی تھیں چوڑیاںالزام پر خموش ہیں، تردید سے گئے جایا نہ جاے گا کبھی آئندہ اس طرفاک بار جس طرف بڑی امید سے گئے در اصل اک سہیلی کی مہندی کی رسم تھیہم

جو نین بجھ گئے وہ تری دید سے گئے Read More »

کتنے خواب تھے ان راتوں کے پہرے دار ہمیشہ سے

کتنے خواب تھے ان راتوں کے پہرے دار ہمیشہ سےلیکن دیکھنے والی آنکھیں تھیں بیدار ہمیشہ سے اتنے روپ بدلنے والی اس دنیا کو کیا سمجھیںکچھ تو اس کی مجبوری ہے، کچھ فنکار ہمیشہ سے یہ انہونی بات نہیں تھی لیکن تم تو ٹوٹ گئےپیار کے رستے میں آتی ہے اک دیوار ہمیشہ سے جب

کتنے خواب تھے ان راتوں کے پہرے دار ہمیشہ سے Read More »

دیواریں کیا اٹھیں، ہوے آنگن جدا جدا

دیواریں کیا اٹھیں، ہوے آنگن جدا جداچرخے جدا جدا ہیں، ترنجن جدا جدا آو سہیلیو ذرا بھیگیں ہم ایک ساتھاب تک کئ گزارے ہیں ساون جدا جدا مطلوب ایک درہی سے خیرات سب کو ہےپھیلے مگر ہیں لوگوں کے دامن جدا جدا کیسی محبتیں ہیں یہ کیسی جدائیاںحالت ہے ایک عشق کی ، الجھن جدا

دیواریں کیا اٹھیں، ہوے آنگن جدا جدا Read More »

کئ کردار خود اپنی کہانی سے گریزاں ہیں

کئ کردار خود اپنی کہانی سے گریزاں ہیںشعورِ عمر پا کر زندگانی سے گریز ہیں ستارے ٹوٹ کر گرتے ہیں جب دھرتی کے سینے پرسمجھ لینا خلا کی لا مکانی سے گریزاں ہیں اگر دیکھی کسی نے سات سالہ نوکرانی توبتانا کس لیے غربا جوانی سے گریزاں ہیں سنا ہی قافلہ تھا کوئی جس کے

کئ کردار خود اپنی کہانی سے گریزاں ہیں Read More »

یقیں جو بد گمانی سے بدل جائے مجھے کہنا

یقیں جو بد گمانی سے بدل جائے مجھے کہنااگر یہ آگ پانی سے بدل جائے مجھے کہنا محبت کا حسیں نغمہ، کسی لمحے کسی بھی پلسکوتِ زندگانی سے بدل جائے مجھے کہنا تمھی اول تمھی آخر تمارا مثل نہ کوئییہ اول جب بھی ثانی سے بدل جائے مجھے کہنا عبادت بے ریا ہو کر ہی

یقیں جو بد گمانی سے بدل جائے مجھے کہنا Read More »

ہر قدم آوارگی کا بھید ہے

ہر قدم آوارگی کا بھید ہےگمرہی، بے رہ روی کا بھید ہے جاوداں ہیں سلسلے تخلیق کےہر نمود- گل کسی کا بھید ہے ہر قدم درپیش کوئ حادثہہر امر میں ان کہی کا بھید ہے شاہد و مشہود دونوں ایک ہیںہر خدائ ، بندگی کا بھید ہے کون پاے گا سواے موت کےبھید آخر زندگی

ہر قدم آوارگی کا بھید ہے Read More »

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا

کیا ہجر میں جی نڈھال کرناکچھ ذکر شب وصال کرنا جو کچھ بھی گزر رہی ہے سہہ لوکچھ اس سے نہ عرض حال کرنا غم اس کے عطا کئے ہوئے ہیںغم کا نہ کبھی ملال کرنا میں تم سے بچھڑ کے جی سکوں گاایسا نہ کبھی خیال کرنا جس طرح جیے ہیں ہم جہاں میںپیش

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا Read More »

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرحوہ ہمیں بھول گئے ایک کہانی کی طرح دوستو ڈھونڈ کے ہم سا کوئی پیاسا لاؤہم تو آنسو بھی جو پیتے ہیں تو پانی کی طرح غم کو سینے میں چھپائے ہوئے رکھنا یاروغم مہکتے ہیں بہت رات کی رانی کی طرح تم ہمارے تھے تمہیں

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح Read More »