MOJ E SUKHAN

پھر وہی ریگ بیاباں کا ہے منظر اور ہم

پھر مقابل میں ہے اک ظالم کا لشکر اور ہم

رات کو پچھلے پہر کوئی بلاتا ہے ہمیں

اور لپٹ کر روز سو جاتے ہیں چادر اور ہم

زخم سر کی داستاں اب یاد بھی آتی نہیں

آشنا تھے کس قدر پہلے یہ پتھر اور ہم

اب تو اک مدت سے ہیں دیوار و در کی قید میں

ساتھ رہتے تھے کبھی صحرا سمندر اور ہم

صرف بچوں کی محبت میں یہ رسوائی ہوئی

ورنہ ساحل پر بناتے ریت کا گھر اور ہم

راہگیروں نے ہمیں پہچان کر سکے دئیے

ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے جب سکندر اور ہم

یہ حویلی بھی کبھی آباد تو ہوگی مگر

اب یہاں مدت سے رہتے ہیں کبوتر اور ہم

رہنمائی کے لیے کوئی ستارہ بھیج دے

کب تلک بھٹکیں گے یوں ہی خاک بر سر اور ہ

پھر وہی ریگ بیاباں کا ہے منظر اور ہم
پھر مقابل میں ہے اک ظالم کا لشکر اور ہم

رات کو پچھلے پہر کوئی بلاتا ہے ہمیں
اور لپٹ کر روز سو جاتے ہیں چادر اور ہم

زخم سر کی داستاں اب یاد بھی آتی نہیں
آشنا تھے کس قدر پہلے یہ پتھر اور ہم

اب تو اک مدت سے ہیں دیوار و در کی قید میں
ساتھ رہتے تھے کبھی صحرا سمندر اور ہم

صرف بچوں کی محبت میں یہ رسوائی ہوئی
ورنہ ساحل پر بناتے ریت کا گھر اور ہم

راہگیروں نے ہمیں پہچان کر سکے دئیے
ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے جب سکندر اور ہم

یہ حویلی بھی کبھی آباد تو ہوگی مگر
اب یہاں مدت سے رہتے ہیں کبوتر اور ہم

رہنمائی کے لیے کوئی ستارہ بھیج دے
کب تلک بھٹکیں گے یوں ہی خاک بر سر اور ہم

والی عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم