MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جاناوہ موج موج مگر خود مرا بکھر جانا یہ کیا خبر تمہیں کس روپ میں ہوں زندہ میںملے نہ جسم تو سائے کو قتل کر جانا پڑا ہوں یخ زدہ صحرائے آگہی میں ہنوزمرے وجود میں تھوڑی سی دھوپ بھر جانا کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے […]

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا Read More »

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھومثالِ نکہتِ گل محملِ سفر باندھو اس آئنہ میں کوئی عکس یوں نہ ابھرے گانظر سے سلسلۂ دانشِ نظر باندھو جو صاحبان بصیرت تھے بے لباس ہوئےفضیلتوں کی یہ دستار کس کے سر باندھو سفیر جاں ہوں حصار بدن میں کیا ٹھہروںچمن پرستو نہ خوشبو کے بال و

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو Read More »

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنرگرد گرد اپنی بصیرت خاک خاک اپنا ہنر جس طرف دیکھو ہجوم چہرۂ بے چہرگاںکس گھنے جنگل میں یارو گم ہوا سب کا ہنر اب ہماری مٹھیوں میں ایک جگنو بھی نہیںچھین کر بے رحم موسم لے گیا سارا ہنر توڑ کر اس کو بھی اب کوئی ہوا

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر Read More »

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دیناذرا سی دھوپ بھی اس سائباں میں رکھ دینا تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کیمجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوںاٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا جدید نسلوں کی خاطر یہ ورثہ کافی

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا Read More »

سلگنا اندر اندر مصرعۂ تر سوچتے رہنا

سلگنا اندر اندر مصرعۂ تر سوچتے رہنابدن پر ڈال کر زخموں کی چادر سوچتے رہنا نہیں کم جاں گسل یہ مرحلہ بھی خود شناسی کاکہ اپنے ہی معانی لفظ بن کر سوچتے رہنا زباں سے کچھ نہ کہنا باوجود تاب گویائیکھلی آنکھوں سے بس منظر بہ منظر سوچتے رہنا کسی لمحے تو خود سے لا

سلگنا اندر اندر مصرعۂ تر سوچتے رہنا Read More »

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والیرہی ہیں بس زیر درس تیرے کتابیں پچھلے نصاب والی میں اپنے لفظوں کو اپنے فن کے لہو سے سرسبز کرنے والامرا شعور اجتہاد والا مری نظر احتساب والی چلو ذرا دوستوں سے مل لیں کسے خبر اس کی پھر کب آئےیہ صبح گلگوں خیال والی یہ مشکبو

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی Read More »

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئےہم ایسے لوگ خود اپنے سفر کی گرد ہوئے نجات یوں بھی بکھرنے کے کرب سے نہ ملیہوئے جو آئنہ سب کی نظر کی گرد ہوئے یہ کن دکھوں نے چم و خم تمام چھین لیاشعاع مہر سے ہم بھی شرر کی گرد ہوئے سب اپنے

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے Read More »

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرایہ کیسا بوجھ ہمارے بدن پہ آن گرا بہت سنبھال کے رکھ بے ثبات لمحوں کوذرا جو سنکی ہوا ریت کا مکان گرا اس آئینے ہی میں لوگوں نے خود کو پہچانابھلا ہوا کہ میں چہروں کے درمیان گرا رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگییہ سوچ کر نہ

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا Read More »

ہم فلک کے آدمی تھے ساکنان قریۂ مہتاب تھے

ہم فلک کے آدمی تھے ساکنان قریۂ مہتاب تھےہم ترے ہاتھوں میں کیسے آ گئے ہم تو بڑے نایاب تھے وقت نے ہم کو اگر پتھر بنا ڈالا ہے تو ہم کیا کریںیاد ہیں وہ دن بھی ہم کو ہم بھی جب مہر و وفا کا باب تھے زر لٹاتے گزرے موسم آنے والی روشنی

ہم فلک کے آدمی تھے ساکنان قریۂ مہتاب تھے Read More »

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیامگر وجود پہ اپنا نشان چھوڑ گیا ہر ایک چیز میں خوشبو ہے اس کے ہونے کیعجب نشانیاں وہ میہمان چھوڑ گیا نہ ساتھ رہنے کا وعدہ اگر کیا پورازمیں کا ساتھ اگر آسمان چھوڑ گیا ذرا سی دیر کو بیٹھا جھکا گیا شاخیںپرندہ پیڑ میں اپنی

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا Read More »