MOJ E SUKHAN

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر
گرد گرد اپنی بصیرت خاک خاک اپنا ہنر

جس طرف دیکھو ہجوم چہرۂ بے چہرگاں
کس گھنے جنگل میں یارو گم ہوا سب کا ہنر

اب ہماری مٹھیوں میں ایک جگنو بھی نہیں
چھین کر بے رحم موسم لے گیا سارا ہنر

توڑ کر اس کو بھی اب کوئی ہوا لے جائے گی
یہ جو برگ سبز کے مانند ہے میرا ہنر

اب کہاں دل کے لہو میں بھیگی بھیگی آگہی
جیب میں ہم بھی لیے پھرتے ہیں مانگے کا ہنر

دیکھنا ہیں کھیلنے والوں کی چابک دستیاں
تاش کا پتا سہی میرا ہنر تیرا ہنر

گرمی پہلو یہی تشکیک و لا علمی کی آنچ
ذوق گمشدگی سے ہم ہیں با خبر یا با ہنر

بس یہی خاکستر جاں ہے یہاں اپنی شناخت
ہو گیا سارا بدن جب راکھ تو چمکا ہنر

شخصیت کا یہ توازن تیرا حصہ ہے فضاؔ
جتنی سادہ ہے طبیعت اتنا ہی تیکھا ہنر

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم