MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں

جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤںہوا کی لوح پہ محفوظ ہو کے رہ جاؤں یہ کیا یقین کہ تو مل ہی جائے گا مجھ کوتری جدائی کا جاں لیوا دک تو سہہ جاؤں خود اپنے آپ کو دیکھوں ورق ورق کر کےکسی کے سامنے جاؤں تو تہہ بہ تہہ جاؤں کھڑا ہوں […]

جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں Read More »

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروںتو بتا کس زاویے سے میں تجھے دیکھا کروں یہ بھی اک شرط سفر ہے ہم سفر کوئی نہ ہوجس کسی بھی راستے کو طے کروں تنہا کروں اے گزرتے وقت تو کب میرے بس میں آئے گالمحہ پراں بتا کب تک ترا پیچھا کروں حلقۂ احباب

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں Read More »

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیابجھی جو آتش جاں زیست کا نشاں بھی گیا بہت پناہ تھی اس گھر کی چھت کے سائے میںوہاں سے نکلے تو پھر سر سے آسماں بھی گیا بڑھا کچھ اور تجسس جلا کچھ اور بھی ذہنحقیقتوں کے تعاقب میں میں جہاں بھی گیا رہے نہ

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا Read More »

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئےجو چوتھی سمت کو نکلے پلٹ کے کب آئے اب اپنے عکس کو پہچاننا بھی مشکل ہےہم اپنے آپ میں حیرت سے ہٹ کے کب آئے اک انتشار تھا گھر میں بھی گھر سے باہر بھیسنور کے نکلے تھے کس دن سمٹ کے کب آئے ہم ایسے خلوتیوں

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے Read More »

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوںشعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں اپنی سوچوں سے نکلنا بھی مجھے دشوار ہےدیکھ میں کس بے کسی کے گنبد بے در میں ہوں دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیںگزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر میں ہوں جرم کرتا ہے کوئی اور

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں Read More »

سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے

سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتےلوگ کیسے میرے اندر کی صفائی دیکھتے اس سے ملنے کا نشاں تک بھی نظر آتا نہیںایک مدت ہو گئی راہ جدائی دیکھتے ہم تو اپنی وسعت دل سے بھی کوسوں دور تھےتیرے دل تک کس طرح اپنی رسائی دیکھتے آپ ہی تھک ہار کر اپنے کو

سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے Read More »

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیےتو مرے ہوتے دکھی ہے میرے شاعر کس لیے سانس لینے پر مجھے مجبور کرتا ہے یہ کونکیا بتاؤں جی رہا ہوں کس کی خاطر کس لیے سوچتا ہوں کیوں بکھر جاتی نہیں ہر ایک شےوہ نہیں ہے تو مرتب ہیں عناصر کس لیے وہ

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے Read More »

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئےرو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے اس سے کب دیکھی گئی تھی میرے رخ کی مردنیپھیر لیتا تھا وہ منہ مجھ کو دوا دیتے ہوئے خواب بے تعبیر سی سوچیں مرے کس کام کیسوچتا اتنا تو وہ دست عطا دیتے ہوئے بے زبانی بخش دی

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے Read More »

تھوڑا تھوڑا مل کر ہوجاتا ہے

بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہ سو ایک ایک تنکا اکٹھا کیا گیا ایک ہی بار سورج نہ ڈوب مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے غروب قدم ہی قدم طے ہوا ہے سفر گئیں لحظے لحظے میں عمریں گزر سمندر کی لہروں کا تانتا سدا کنارے سے ہے آ کے ٹکرا رہا سمندر سے دریا سے

تھوڑا تھوڑا مل کر ہوجاتا ہے Read More »

ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہے

ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہےاس غم کی کبھی ہم نے اشاعت نہیں کی ہے جب وصل ہوا اس سے تو سرشار ہوئے ہیںاور ہجر کے موسم نے رعایت نہیں کی ہے جو تو نے دیا اس میں اضافہ ہی ہوا ہےاس درد کی دولت میں خیانت نہیں کی ہے ہم نے

ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہے Read More »