MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا
وہ موج موج مگر خود مرا بکھر جانا

یہ کیا خبر تمہیں کس روپ میں ہوں زندہ میں
ملے نہ جسم تو سائے کو قتل کر جانا

پڑا ہوں یخ زدہ صحرائے آگہی میں ہنوز
مرے وجود میں تھوڑی سی دھوپ بھر جانا

کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے گا
خود اپنے سائے کو بھی دیکھنا تو ڈر جانا

جو چاہتے ہو سحر کو نئی زبان ملے
تو پچھلی شب کے چراغوں کو قتل کر جانا

ہمارے عہد کا ہر ذہن تو نہیں جامد
کسی دریچۂ احساس سے گزر جانا

فضاؔ تجھی کو یہ سفاکی ہنر بھی ملی
اک ایک لفظ کو یوں بے لباس کر جانا

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم