MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا
مگر وجود پہ اپنا نشان چھوڑ گیا

ہر ایک چیز میں خوشبو ہے اس کے ہونے کی
عجب نشانیاں وہ میہمان چھوڑ گیا

نہ ساتھ رہنے کا وعدہ اگر کیا پورا
زمیں کا ساتھ اگر آسمان چھوڑ گیا

ذرا سی دیر کو بیٹھا جھکا گیا شاخیں
پرندہ پیڑ میں اپنی تھکان چھوڑ گیا

وہ واقعہ مرا کردار ابھرتا تھا جس میں
کہانی کار اسی کا بیان چھوڑ گیا

سمٹتی پھیلتی تنہائی سوتے جاگتے درد
وہ اپنے اور مرے درمیان چھوڑ گیا

بہت عزیز تھی نیند اس کو صبح کاذب کی
سو اس کو سوتے ہوئے کاروان چھوڑ گیا

رہا ریاضؔ اندھیروں میں نوحہ کرنے کو
وہ آنکھیں نوچنے والا زبان چھوڑ گیا

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم