MOJ E SUKHAN

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں
تو بتا کس زاویے سے میں تجھے دیکھا کروں

یہ بھی اک شرط سفر ہے ہم سفر کوئی نہ ہو
جس کسی بھی راستے کو طے کروں تنہا کروں

اے گزرتے وقت تو کب میرے بس میں آئے گا
لمحہ پراں بتا کب تک ترا پیچھا کروں

حلقۂ احباب بڑھتا جا رہا ہے دن بدن
اب میں اپنے آپ کو بھی اور کچھ گہرا کروں

کیا ترے ہی قرب کے محتاج تھے سب سلسلے
کچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ میں اب کیا کروں

ان گنت بنتی بگڑتی خواہشوں کی زد میں ہوں
دل کہیں ٹھہرا بھی ہو میں دل کا کیا کہنا کروں

میرے ملنے والوں میں سے کون ملتا ہے تجھے
تو کہاں ہے اور کیسا ہے کسے پوچھا کروں

مجھ میں بھی تیری طبیعت کا ذرا سا رنگ ہے
تو نہیں تو کیوں نہ اپنے آپ کو چاہا کروں

میرے شعروں میں تری بے چارگی کا دکھ بھی ہو
کاش جو تو سوچتا ہے وہ بھی میں لکھا کروں

کیا سے کیا ہونے کا دکھ بھی کتنا کرب انگیز ہے
کس توقع پر ریاضؔ اب آئنہ دیکھا کروں

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم