MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے
جو چوتھی سمت کو نکلے پلٹ کے کب آئے

اب اپنے عکس کو پہچاننا بھی مشکل ہے
ہم اپنے آپ میں حیرت سے ہٹ کے کب آئے

اک انتشار تھا گھر میں بھی گھر سے باہر بھی
سنور کے نکلے تھے کس دن سمٹ کے کب آئے

ہم ایسے خلوتیوں سے مکالمے کو یہ لوگ
جہان بھر کی صداؤں سے اٹ کے کب آئے

یہ گفتگو تو ہے رد عمل تری چپ کا
جو کہہ رہے ہیں یہ ہم گھر سے رٹ کے کب آئے

جب اپنے آپ میں مصروف ہو گیا وہ بہت
ہم اس کی سمت زمانے سے کٹ کے کب آئے

ریاضؔ دھیان ہم آغوش آئنے سے رہا
خیال اس کے تصور سے ہٹ کے کب آئے

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم