MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہےکسی سفر کا مسافر ہو گھر ہی جاتا ہے وہ آدمی ہی تو ہوتا ہے غم کی شدت سےہزار کوششیں کر لے بکھر ہی جاتا ہے وہ ہجر ہو کہ ترے وصل کا کوئی لمحہوہ مستقل نہیں ہوتا گزر ہی جاتا ہے جو اس سے پہلے بھی شیشے […]

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے Read More »

خواب تعبیر میں بدلتا ہے

خواب تعبیر میں بدلتا ہےاس میں لیکن زمانہ لگتا ہے جب اسے چاہتیں میسر ہوںخود بخود آدمی بدلتا ہے پہلے یہ دل کہاں دھڑکتا تھااب ہر اک بات پر دھڑکتا ہے ہاں مری خواہشیں زیادہ ہیںہاں وہ اس بات کو سمجھتا ہے سر بسر وصل کی تمنا میںوہ بدن روح میں اترتا ہے رات بھی

خواب تعبیر میں بدلتا ہے Read More »

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے

لبوں سے آشنائی دے رہا ہےوہ لذت انتہائی دے رہا ہے محبت بھی ہوئی کار مشقتبدن تھک کر دہائی دے رہا ہے چراتا ہے بدن مجھ سے نگاہیںمجھے دل بھی صفائی دے رہا ہے کوئی بھر دے گا اپنی قربتوں سےکوئی زخم جدائی دے رہا ہے کوئی تو ہے جو اتنی سردیوں میںبدن جیسی رضائی

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے Read More »

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائیاب لکھیں گے کتاب تنہائی وصل کی شب تمام ہوتے ہیآ گیا آفتاب تنہائی خامشی وحشتیں اداسی ہےکھل رہے ہیں گلاب تنہائی اس کی یادوں کے گھر میں جاتے ہیکھل گیا ہم پہ باب تنہائی وصل کی شب تمہارے پہلو میںلے رہا ہوں ثواب تنہائی کس کو بتلائیں کون سمجھے گاکیسے

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی Read More »

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہاقسم سفر کی وہی ایک ہم رکاب رہا سمجھ سکا نہ اسے میں قصور میرا ہےکہ میرے سامنے تو وہ کھلی کتاب رہا میں ایک لفظ بھی لیکن نہ پڑھ سکا اس کواگرچہ وہ بھی مرا شامل نصاب رہا میں معرفت کے ہوں اب اس مقام پر کہ جہاںکیا

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا Read More »

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھامل رہے تھے مگر خیال نہ تھا مل رہے تھے کہ دونوں تنہا تھےگفتگو میں بھی قیل و قال نہ تھا میرے اور اس کے درمیان ابھیکوئی بھی سلسلہ بحال نہ تھا راستے ختم ہو چکے تھے مگرواپسی کا کوئی سوال نہ تھا یہ بھی اک مرحلہ تمام ہواہو

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا Read More »

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھیروز ملنے کی پرانی وہی عادت رکھی تو گیا ہے تو پلٹ کر نہیں پوچھا میں نےورنہ برسوں تری یادوں کی امانت رکھی کل اچانک کوئی تصویر بنی کاغذ پرمدتوں سب سے چھپا کر تیری صورت رکھی وہ مقدر میں نہیں ہے تو اسی کے دل میںکس

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی Read More »

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سےاسے مل رہی ہے خوشی کسی کے خیال سے میں نے صرف ایک ہی دائرے میں سفر کیاکبھی بے نیاز بھی کر مجھے مہ و سال سے کبھی ہنس کے خود ہی گلے سے اس کو لگا لیاکبھی رو دیے ہیں لپٹ کے خود ہی ملال سے

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے Read More »

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے اور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھے خوش گوار موسم پر کامیابیاں مبنی من چلا سمندر ہے بادبان کے پیچھے ہم سے رہ نوردوں کو دشت راس کیا آتا آخرش پلٹنا تھا خاک چھان کے پیچھے چیخ المدد شاید دست غیب آ جائے ناولوں کے لشکر ہیں

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے Read More »

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیےسفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیے سڑک سڑک مہک رہے تھے گل بدن سجے ہوئےتھکے بدن اک اک گلے کا ہار لے کے چل دیے جبلتوں کا خون کھولنے لگا زمین پرتو عہد ارتقا خلا کے پار لے کے چل دیے پہاڑ

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے Read More »