MOJ E SUKHAN

جست بھرتا ہوا فردا کے دہانے کی طرف

جست بھرتا ہوا فردا کے دہانے کی طرف
جا نکلتا ہوں کسی اور زمانے کی طرف

آنکھ بیدار ہوئی کیسی یہ پیشانی پر
کیسا دروازہ کھلا آئینہ خانے کی طرف

خود ہی انجام نکل آئے گا اس واقعے سے
ایک کردار روانہ ہے فسانے کی طرف

حل نکلتا ہے یہی رشتوں کی مسماری کا
لوگ آ جاتے ہیں دیوار اٹھانے کی طرف

درمیاں تیز ہوا بھی ہے زمانہ بھی ہے
تیر تو چھوڑ دیا میں نے نشانے کی طرف

ایک بچھڑی ہوئی آواز بلاتی ہے مجھے
وقت کے پار سے گم گشتہ ٹھکانے کی طرف

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم